نئی دہلی،یکم اگست ،(ایس او نیوز؍ایجنسی) ممتا بنرجی کے خانہ جنگی پر دئے گئے بیان پر کرن رجیجو نےئ کہا کہ ریاست میں نظم و نسق برقرار رکھنے وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔
در اصل مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی تین روز سے دہلی میں ہیں اور انہوں نے بی جے پی کو این آر سی معاملہ پر نشانہ بنایا ہوا ہے۔ انہوں نے اس معاملہ میں جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے شمار ایسے ہندوستانی شہری ہیں جن کے نام این آر سی میں نہیں ہیں۔
قبل ازیں انہوں نے وزیر داخلہ سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ اگر بنگال پر این آر سی کو لادنے کی کوشش کی گئی تو خانہ جنگی کے حالات پیدا ہو جائیں گے اور خون خرابہ ہوگا۔ انہوں نے کہا تھا کہ بی جے پی ملک کو بانٹنے کی کوشش کر رہی ہے جو بہت خطرناک ہے۔
این سی آر معاملہ پر راجیہ سبھا میں بولتے بی جے پی کے صدر امت شاہ نے کہا، ’’14 اگست 1985 کو راجیو گاندھی نے آسام معاہدہ پر دستخط کئے اور 15 اگست 1985 کو لال قلعہ سے انہوں نے اس کا اعلان بھی کیا۔ اُس آسام معاہدہ کی روح ہی این آر سی تھی۔ معاہدہ میں کہا گیا کہ غیرقانونی دراندازوں کی شناخت کر کے ایک خالص نیشنل سٹیزن رجسٹر بنایا جائے گا۔ یہ قدم آپ کے ہی وزیر اعظم کا اٹھایا ہوا ہے۔ اس پر عمل کرنے کی ہمت آپ میں نہیں تھی، لیکن ہم میں ہمت ہے اس لئے ہم عمل آوری کے لئے نکلے ہیں۔‘‘
امت شاہ نے کہا، ’’این آر سی سپریم کورٹ کے حکم سے بن رہا ہے سب لوگ 40 لاکھ 40 لاکھ چلا رہے ہیں۔ لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس میں کتنے بنگلہ دیشی درانداز ہیں؟ کسے بچا رہے ہیں آپ؟‘‘
ہنگامہ کے بعد امت شاہ اپنا بیان مکمل نہیں کر پائے تھے۔ راجیہ سبھا میں ہنگامہ کم ہوا تو آج وہ اپنا بیان پورا کر سکتے ہیں۔
آسام کے این آر سی میں 40 لاکھ لوگوں کے نام شامل نہ ہونے کا معاملہ آج بھی پارلیمنٹ کے ایوان میں گونج اٹھا۔ این آر سی ڈرافٹ کے تعلق سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ادھیر رنجن چودھری نے لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے لئے نوٹس دیا۔ اس سے قبل حزب اختلاف نے ایوان کے اندر اور باہر اس معاملہ کو اٹھایا تھا۔ کانگریس، ٹی ایم سی اور جے ڈی ایس سمیت تمام اپوزیشن نے حکومت کے رخ پر سوال کھڑے کئے تھے۔
راجیہ سبھا میں آج کی کارروائی کا آغاز ہوتے ہی آنند شرما نے امت شاہ کے بیان کا ذکر کیا اور کہا کہ ہمارے درمیان موجود ایک موصوف نے راجیو گاندھی کے بعد کے تمام وزرائے اعظم کو بزدل کہا، اسے ریکارڈ سے نکالا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران انہی کی پارٹی کے رہنما اٹل بہاری واجپئی بھی وزیر اعظم رہے ہیں۔ کانگریس نے امت شاہ سے منگل کے روز دئیے گئے بیان پر معافی مانگنے کو کہا۔
وینکیا نائڈو نے کہا کہ کل این آرسي پر امت شاہ کا بیان مکمل نہیں ہو پایا تھا، پہلے وہ پورا ہوگا اور اس کے بعد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اس معاملے پر بیان دیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے امت شاہ كوبولنے کے لئے پکارا تو کانگریس اور ترنمول کانگریس کے رکن اپنی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو گئے اور زور زور سے بولنے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں راج ناتھ سنگھ کے بیان کے بارے میں بتایا گیا تھا، اس میں امت شاہ کا بیان شامل نہیں تھا۔
چیئرمین نے ارکان سے خاموش رہنے اور ایوان کی کارروائی چلنے دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے ایوان میں حزب اختلاف کے لیڈر غلام نبی آزاد سے بھی اراکین کو پرسکون رہنے کی درخواست کی۔ لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور انهوں نے کارروائی 12 بجے تک کیلئے ملتوی کر دی۔